امیری اور طلب مال کے لیے) ملاقات کرتے ہیں۔ ‘‘(1)
تعظیم اُمراء کے بارےمیں تنبیہ:
امیرلوگوں کے مال ودولت اور ان کی امارت کی وجہ سے ان کی تعظیم کرنا نہایت ہی مذموم وقبیح کام ہے، ہر مسلمانوں کو اُس برے فعل سے بچنا لازم ہے۔
حکایت، دنیا دار کی دعوت کیسے قبول کروں ؟
خلیفۂ حُجَّۃُ الاِسْلَام مُحَدِّثِ اَعْظَم پاکستان حضرت علامہ مولانا سردار احمد عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الصَّمَد اُمراء سے ہمیشہ دُور رہا کرتے تھے،اُمراء کے دروازوں پر جانا، اُن کی تعظیم کرنا، اُن کے آستانوں کے چکر لگانا آپ کے نزدیک انتہائی معیوب تھا۔نیز اُمراء کی دعوت قبول کرنے سے بھی حتی الامکان اجتناب کیا کرتے تھے۔ چناچہ ۱۳۷۵ہجری بمطابق ۱۹۵۶عیسوی جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حج کے لیے تشریف لے گئے تو ایک موقع پر مکہ معظمہ میں آپ نے قرآن وحدیث کے دلائل سے مزین علمی بیان فرمایا۔ اُمورِشرعیہ پر معمور ایک امیروکبیر شخص نے جب یہ علمی بیان سنا تو وہ بھی آپ کے علمی کمالات سے بے حد متاثر ہوا۔ اس نے اعزاز علم کی خاطرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی دعوت کرنا چاہی اور ایک معلم کے ذریعے آپ کو دعوت نامہ ،آنے جانے کے لیے اپنی کاراور دیگر گراں قدر تحائف کی پیش کش پر مشتمل پیغام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…ابن ماجہ،کتاب السنۃ، باب الانتفاع بالعلم والعمل بہ، ج۱، ص۱۶۶ ، حدیث: ۲۵۵۔
مرقاۃ، کتاب العلم، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۳۰، تحت الحدیث: ۲۷۵۔