اس کی رضا چاہتے اور تمہاری آنکھیں انہیں چھوڑ کر اور پر نہ پڑیں کیا تم دنیا کی زندگی کا سنگار چاہو گے اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا۔‘‘
مُفَسِّرِ شَھِیر، حکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان ’’نورالعرفان‘‘ میں اِس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں :’’اِس میں قیامت تک کے مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ غافِلُوں ، مُتَکَبِّرُوں ، رِیاکاروں ، مال داروں کی نہ مانا کریں ، مُخْلِص صالِح غُرَباَء ومَسَاکِین مسلمانوں کی اِطاعت کیا کریں۔ اِن مالداروں کی بات ماننا دنیا و دین برباد کردیتا ہے۔ اسی لیے اکثر انبیاء اولیاء غُرَباَء میں ہوئے۔‘‘ (1)
حدیث مبارکہ،جہنم کی خطرناک وادی سے پناہ:
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جُبُّ الْحُزْن سے پناہ مانگو۔‘‘ پوچھا گیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! جُبُّ الْحُزْن کیا ہے؟‘‘ فرمایا: ’’یہ جہنم کی ایک وادی ہے جس سے خود جہنم بھی دن میں چار سو مرتبہ پناہ مانگتا ہے۔‘‘ پوچھا گیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !اس میں کون لوگ داخل ہوں گے؟‘‘ فرمایا: ’’اس میں ریاکار قراء (اہل علم) کو ڈالا جائے گا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں بہت مَبْغُوض (قابل نفرت) قرَّاء (اہل علم) وہ ہیں جو امیر لوگوں سے (ان کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…نورالعرفان، پ۱۵، الکہف، تحت الآیہ:۲۸۔