کو خوبیوں میں بدلنے کی اتنی کوشش کروں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں بھی سرخروئی حاصل ہوگی اورمیر ی آخرت بھی بہتر ہوگی۔‘‘
(6)…بعض اوقات لوگوں کو با آسانی دھوکہ دینےاور لوگوں کی آنکھوں میں دُھو ل جَھونکنے کے لیے طلب شہرت جیسا حربہ استعمال کیا جا تا ہے۔اس کا علا ج یہ ہے کہ بندہ اپنے دل میں مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ پیدا کرےاور اس وقتی نفع کے حُصُول کے اُخرَوِی وَبال کو ہمیشہ اپنے پیشِ نظر رکھے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(9)…تعظیم اُمراء
تعظیم اُمَرَاء کی تعریف:
تعظیم اُمَرَاء یعنی حکمرانوں اور دولت مندوں کی تعظیم کرنا۔ امیروکبیر لوگوں کی وہ تعظیم جو محض اُن کی دولت وامارت کی وجہ سے ہو تعظیم اُمَرَاء کہلاتی ہے جو قابل مذمت ہے۔
آیت مبارکہ:
اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجْہَہٗ وَ لَا تَعْدُ عَیۡنَاکَ عَنْہُمْ ۚ تُرِیۡدُ زِیۡنَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنۡ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا ﴿۲۸﴾ ﴾ (پ۱۵، الکھف: ۲۸) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں