مجھے شفا عطا فرما، میں آئندہ گناہ نہیں کروں گا۔‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھ سے بیماری کودورکر دیا۔ جب میں شفا یا ب ہوا،تو دوبارہ لہو ولعب اور لذات و خواہشات میں پڑ گیا۔ شیطان لعین نے مجھے وہ عہد بھلا دیا جو میرے رب عَزَّوَجَلَّ اور میرے درمیان ہوا تھا ، عرصۂ دراز تک گناہ کرتا رہا،پھر اچانک اُسی بیماری میں مبتلا ہو گیا جس میں میں نے موت کے سائے دیکھے تو گھر والوں سے کہا کہ مجھے میری عادت کے مطابق وسط ِمکا ن میں نکال دیں۔ میں نے مصحف شریف منگوا کر پڑھااور بلند کرکے عرض کی:
’’یا اللہ عَزَّوَجَلَّ ! اُس کی عظمت کا واسطہ جو اِس مصحف شریف میں ہے، مجھےاِس مرض سے نجات عطا فرما۔‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میری دعاقبول فرمائی اور دوبارہ اس بیماری سے مجھے شفا عطافرمادی۔ لیکن میں پھر اسی طرح نفسانی خواہشات اور نافرمانیوں میں پڑگیا یہا ں تک کہ اَب دوبارہ اسی مرض میں مبتلا یہاں پڑاہوں ، میں نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا کہ اِس دفعہ بھی مجھے وسط ِ مکان میں نکال دو جیسا کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں۔ پھر جب میں مصحف شریف منگوا کر پڑھنے لگا توایک حرف بھی نہ پڑھ سکا۔ میں سمجھ گیا کہ اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی مجھ پر سخت ناراض ہے، میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر عرض کی:
’’یا اللہ عَزَّوَجَلَّ ! اس مصحف شریف کی عظمت کا صدقہ! مجھ سے اس مرض کو زائل فرمادے ۔‘‘ تو میں نے ہاتف ِ غیبی سے یہ اشعار سنے۔اشعار کا مفہوم یہ ہے:’’جب توبیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو اپنے گناہوں سے توبہ کرلیتا ہے اور جب تندرست ہوتا