Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
85 - 341
میں بستر پر لیٹا ہوا ہے۔ چہرہ سیاہ، آنکھیں نیلی اورہونٹ موٹے ہو چکے ہیں۔ میں نے کہا: ’’اے میرے بھائی! لَااِلٰہَ اِلَّا اللہ کی کثرت کرو۔‘‘اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور بڑی مشکل سے میری طرف دیکھا، پھر اس پر غشی طاری ہو گئی۔ میں نے دوسری مرتبہ یہی تلقین کی تو اس نے مجھے بمشکل آنکھیں کھول کر دیکھا لیکن دوبارہ اس پر غشی طاری ہو گئی۔ جب میں نے تیسری مر تبہ کلمہ پڑھنے کی تلقین کی تو اُس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور کہنے لگا: ’’اے میرے بھا ئی منصور! اس کلمہ کے اور میرے درمیان رُکاوٹ کھڑی کر دی گئی ہے۔‘‘ میں نے کہا: ’’لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَاِلَّابِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ کہاں گئیں تمہاری وہ نمازیں ، روزے، تہجد اور راتوں کا قیام؟‘‘
 تو وہ حسرت سے کہنے لگا: ’’اے میرے بھا ئی! میرے یہ سب اعمال اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضاکے لئے نہیں تھے، بلکہ میں یہ تمام عبادتیں شہرت کے لیے کیا کرتا تھا تاکہ لوگ مجھے نمازی، روزے دار اور تہجدگزار کہیں اور میں لوگوں کو دکھانے کے لئے ذکر ِ الٰہی کیا کرتا تھا۔ میں لوگوں کی نظر میں بہت نیک تھا لیکن جب میں تنہائی میں ہوتا تو دروازہ بند کر لیتا، بَرَہْنَہ ہو کر شراب پیتااور نافرمانیوں سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا مقابلہ کرتا۔ ایک عرصے تک میں اِسی طرح کرتا رہا پھر ایسابیمار ہوا کہ بچنے کی امید نہ رہی، میں نے اپنی بیٹی سے کہا کہ قرآنِ پاک لے کر آؤ، اس نے ایسا ہی کیا، میں مصحف شریف کے ایک ایک حرف کو پڑھتا رہا یہاں تک کہ جب سورۂ یٰس تک پہنچا تو مصحف شریف کو بلند کرکے بارگاہ الٰہی میں یوں عرض کی: ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! اس قرآنِ عظیم کے صدقے