شہرت وناموری کب قابل مذمت نہیں ؟
امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْوَالِی ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’جان لیجئے! مذموم وہ شہرت ہے جس کی چاہت کی جائے، البتہ جو شہرت بغیر طلب کے محض اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے کرم سے عطا فرمادے وہ ہرگز مذموم نہیں۔ البتہ کمزور لوگوں کے لیے شہرت آزمائش ہے۔ اس کو یوں سمجھئے کہ کچھ لوگ ڈوب رہے ہوں ان میں ایک ایسا کمزور شخص بھی ہو جسے تیرنا آتا ہو، اب اس کے لیے بہتر یہ ہے اس کا کسی کو علم نہ ہو ورنہ وہ سب آکر اُس سے چمٹ جائیں گے، نتیجتاً وہ مزید کمزور ہوجائے گا اور اُن سب کے ساتھ خود بھی ہلاک ہوجائے گا، جبکہ ایک قوی تیراک کے لیے بہتر یہ ہے کہ ڈوبنے والے اس کو پہچانیں تاکہ اس کے ساتھ چمٹ جائیں اور وہ ان کو بچا کر ثواب پائے۔‘‘(1)
حکایت، شہرت کے لیے اعمال کرنے کی آفتیں :
حضرت سیِّدُنا منصور بن عما ر عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْغَفَّار ارشاد فرماتے ہیں کہ میراایک اسلامی بھا ئی جوکہ میرا بہت مُعْتَقِد تھا، ہردُکھ سُکھ میں مجھ سے ملاقات کرتا، میں اسے انتہائی عبادت گزار، تہجدگزار اور گریہ وزاری کرنے والا سمجھتا تھا۔ میں نے کچھ دنوں تک اسے نہ پایا معلوم ہوا کہ وہ تو بے حد کمزور ہو گیا ہے۔ میں اس کے گھر کے متعلق معلومات لینے کے بعد وہاں پہنچ گیا اور دروازے پر دَسْتک دی تو اس کی بیٹی نے دروازہ کھولا، اجازت ملنے کے بعد میں اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ وہ گھر کے وسط
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احیاء العلوم، ج۳، ص۸۲۹۔