Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
83 - 341
کرتے ہیں اور رضائے الٰہی اِنہیں مقصُود نہیں ہوتی جیسے کہ مشرکین و منافقین یہ بھی اِنہیں کے حکم میں ہیں جن کا حکم اُوپر گزر گیا۔‘‘’’جس کا مصاحب شیطان ہوا ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’دنیاو آخرت میں ، دنیا میں تو اس طرح کہ وہ شیطانی کام کرکے اُس کو خوش کرتا رہا اور آخرت میں اس طرح کہ ہر کافر ایک شیطان کے ساتھ آتشی زنجیر میں جکڑا ہوا ہوگا۔‘‘
حدیث مبارکہ، طالب شہرت کے لیے رسوائی:
رسولِ اکرم،نورِ مجسَّم ،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جو شہرت کے لئے عمل کرے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے رسوا کرے گا، جو دکھاوے کے لئے عمل کرے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ (بروز قیامت اس کے عیوب) لوگوں پر ظاہر فرمادے گا۔‘‘(1) 
طلب شہرت کا حکم:
طلب شہرت نہایت ہی قبیح ومذموم کام ہے، طلب شہرت بسا اوقات کئی گناہوں میں مبتلا ہونے کا سبب بن جاتا ہے لہٰذا ہرمسلمان کو اس سے بچنا لازم ہے۔امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’جاہ ومنصب کا مطلب شہرت اور ناموری ہے اور یہ قابل مذمت ہے، قابل تعریف صرف گمنامی ہے، ہاں یہ الگ بات ہے کہ بغیر شہرت وناموری کی مشقت اٹھائے محض دین پھیلانے کے سبب اللہ عَزَّوَجَلَّکسی کو مشہور کردے تو یہ شہرت وناموری قابل مذمت نہیں۔‘‘(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…بخاری، کتاب الرقاق، باب الرباء والسمعۃ، ج۴، ص۲۴۷، حدیث: ۶۴۹۹۔
2…احیاء العلوم، ج۳، ص۸۲۲۔