جدائی کے وقت بہت زیادہ غم اور تکلیف کا سامناہوتا ہے۔(1)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(8)…طلبِ شہرت
طلب شہرت کی تعریف:
’’اپنی شہرت کی کوشش کرنا طلب شہرت کہلاتا ہے۔‘‘ (2)(یعنی ایسے افعال کرنا کہ مشہور ہو جاؤں۔)
آیت مبارکہ:
اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتاہے: ﴿ وَالَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوَالَہُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا یُؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ ؕ وَمَنۡ یَّکُنِ الشَّیۡطٰنُ لَہٗ قَرِیۡنًا فَسَآءَ قَرِیۡنًا ﴿۳۸﴾ ﴾ (پ۵، النساء: ۳۸) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے اللہ اور نہ قیامت پر اور جس کا مصاحب شیطان ہوا تو کتنا برا مصاحب ہے۔‘‘
صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی ’’خزائن العرفان‘‘ میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’بخل کے بعد صرفِ بیجا کی برائی بیان فرمائی کہ جو لوگ محض نمود و نمائش اور نام آوری (یعنی طلب شہرت) کے لئے خرچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احیاء العلوم،ج۳،ص۶۵۳تا۶۶۶ماخوذا۔
2…مراۃ المناجیح،ج۷، ص۲۶ ماخوذا۔