زیب و زینت سے آراستہ بدصورت بوڑھی عورت کی طرح ہےلہٰذا دنیا کی اس اصلیت کو جاننے لینے کے بعد دنیا کا پیچھا کرنے والے کو ندامت و پشیمانی ہی ہوتی ہے۔یہ خرابی پیش نظر رکھتے ہوئے کبھی بھی دنیا کی ظاہری خوب صورتی کو دل میں جگہ نہ دے۔(۴)دنیا میں انسان کی حیثیت اس سوار کی طرح ہر جو درخت کی چھاؤں میں کچھ دیرآرام کرنے کے بعداسے وہیں چھوڑ کر اپنا سفر شروع کردیتا ہے۔دنیا کو اس نظر سے دیکھنے والے کا دل کبھی بھی دنیا کی محبت میں گرفتار نہیں ہوتا۔(۵)دنیا سانپ کی طر ح ہے جو چھونے میں نرم و ملائم ہے لیکن اس کا زہرجان لیواہوتاہے۔کیا عارضی نفع کے لیے دائمی تکلیف کو اپنا لینا دانائی ہے؟ (۶)جس طر ح پانی میں چلنے والے کے قدم سوکھے نہیں رہ سکتے اسی طرح دنیا سےالفت رکھنے والامصیبت و آفت سے چھٹکار ا نہیں پاسکتا اور آخرکار دنیوی محبت کی دیمک دل سے عبادت کی لذت و مٹھاس کوآہستہ آہستہ ختم کردیتی ہے۔(۷)طالب دنیا کی مثال سمند ر کے پانی سے پیاس بجھانے والے جیسی ہے،جس قدروہ پانی پیتا ہے اتنا ہی پیاس میں اضافہ ہوجاتا ہے۔(۸)جس طرح عمدہ اور لذیذ غذا کا انجام غلاظت اور گندگی ہے اسی طرح خوش نما دنیا کا انجام بھی تکلیف دہ موت پر ختم ہوتا ہے۔(۹)دنیا لوگوں کو دھوکا دیتی ہے اور ایمان کمز ور کرتی ہے۔(۱۰)دنیا میں حد سے زیادہ مشغولیت ،آخرت سے غافل ہونے کا سبب ہے۔(۱۱)دنیا ایک مہمان خانہ ہے لہٰذا اس میں پر سکون رہنے کے لیے خود کو مسافر رکھنا ضروری ہے ،اگر دنیا کو مستقل ٹھکانہ سمجھ کر اس سے دل لگا بیٹھے تو