Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
341 - 341
کب گناہوں سے کنارا میں کروں گا یارب
کب گناہوں سے کنارا میں کروں گا یارب!
نیک کب اے مرے اللہ بنوں گا یا رب!
کب گناہوں کے مرض سے میں شفا پائوں گا
کب میں بیمار، مدینے کا بنوں گا یارب!
گر ترے پیارے کا جلوہ نہ رہا پیش نظر
سختیاں نزع کی کیوں کر میں سہوں گا یارب!
نزع کے وقت مجھے جلوۂ محبوب دکھا
تیرا کیا جائے گا میں شاد مروں گا یارب!
ہائے! معمولی سی گرمی بھی سہی جاتی نہیں
گرمی حشر میں پھر کیسے سہوں گا یارب!
آج بنتا ہوں معزّز جو کھلے حشر میں عیب
آہ! رسوائی کی آفت میں پھنسوں گا یارب!
پل صراط آہ! ہے تلوار کی بھی دھار سے تیز
کس طرح سے میں اسے پار کروں گا یارب!
قبر محبوب کے جلووں سے بسا دے مالک
یہ کرم کر دے تو میں شاد رہوں گا یارب!
گر تو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی
ہائے! میں نارجہنّم میں جلوں گا یارب!
دردسر ہو یا بخار آئے تڑپ جاتا ہوں
میں جہنّم کی سزا کیسے سہوں گا یارب!
عفو کر اور سدا کے لئے راضی ہوجا
گر کرم کر دے تو جنّت میں رہوں گا یارب!
اِذن سے تیرے سر حشر کہیں کاش! حضور
ساتھ عطارؔ کو جنّت میں رکھوں گا یارب!