سکون محسوس کرنے لگا۔ چنانچہ میں بھی ہونے والے پرسوز بیان کی برکتیں سمیٹنے کے لیے عاشقانِ رسول کے قرب میں جابیٹھا اور توجہ سے بیان سننے میں محو ہو گیا۔ بیان کے بعد تمام عاشقانِ رسول یک زبان ہو کر اپنے رب 1کی عظمت وکبریائی کی صدائیں بلند کرنے لگے۔ میں بھی ذکرِالٰہی کی لذت سے مالا مال ہونے لگا، پھر دعا کے آداب بیان کئے گئے اور ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی نے ایسی پُر سوز دعا کرائی کہ مجمع پر رقت طاری ہوگئی۔
ہر ایک اپنے رب 1کی بارگاہ سے رحمت ومغفرت کی بھیک حاصل کرنے کے لیے دست دراز کیے بیٹھا تھا بہت سی آنکھیں خوفِ خدا کے باعث اشک بہارہی تھیں اور فضاء خائفین کے رونے کی آوازوں سے گونج رہی تھی۔ خوفِ خدا میں رونے والے عاشقانِ رسول کی پر سوز صداؤں نے مجھ پر ایسی رقت طاری کی کہ میری حالت بھی غیر ہو گئی، روتے روتے میری ہچکیاں بندھ گئیں ، آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔میں نے زندگی کی بقیہ سانسوں کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے سابقہ گناہوں سے سچی توبہ کی اور گناہوں بھری زندگی چھوڑ کر دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے رشتہ جوڑنے کا عزمِ مُصَمَّم کرلیا۔اختتامِ دعا پرمیں اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کررہا تھا گویا ایک بہت بھاری وزن میرے دل و دماغ سے اُتر گیا ہو۔ ایک عجب کیف و سرور کی کیفیت مجھ پر طاری تھی، نیکیوں سے محبت میرے دل میں پیدا ہو چکی تھی۔ چنانچہ میں نے اجتماع سے واپسی پر نمازوں کی پابندی شروع کر دی اور نیکی