دوست یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے مگر انہیں مسجد میں جانے کی توفیق نصیب نہ ہوئی، مسجد میں پہنچ کر میں نے وضو کیااور ان اسلامی بھائی کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو گیا، چونکہ مجھے نماز پڑھنا نہیں آتی تھی اس لیے ان کو دیکھ دیکھ کر نماز ادا کرنے لگا ، ایک عرصے کے بعد بارگاہ الٰہی میں سربسجود ہونے کی سعادت ملی تھی، نماز اداکرنے کے بعد اپنے گناہوں سے لتھڑے ہوئے کالے کالے ہاتھ بارگاہ الٰہی میں اٹھا دیے، دنیا وآخرت کی بہتری طلب کی، جب واپس جانے لگاتو میری نظر مسجد میں ایک طرف بیٹھے ہوئے چند عاشقانِ رسول پر پڑی، قریب جاکر دیکھا کہ ایک سنّتوں کے پابند اسلامی بھائی شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مایہ ناز تالیف ’’فیضان سنّت ‘‘سے انتہائی پیارے انداز میں درس دے رہے ہیں اور کئی اسلامی بھائی باادب بیٹھ کر درس سننے میں محو ہیں یہ پیارا منظر دیکھ بہت اچھا لگا اور میں بھی علم دین کے اس گلشن میں کھلنے والے خوشنما پھولوں سے اپنے دل کے گلدستے کو سجانے بیٹھ گیا ،جوں جوں ایک ولیٔ کامل کی عام فہم اور پراثر تحریر سنتا گیا میرے اندر کی کیفیت بدلتی گئی ،دل کی قساوت (سختی) نرمی میں بدلنے لگی اور میں اپنی بداعمالیوں کے بارے میں سوچ کر خوف زدہ ہوگیا ۔ بے ساختہ میری آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات شروع ہوگئی جن سے دل کی بنجر زمین سیراب ہونے لگی۔
درس کے اختتام پر مبلغ دعوتِ اسلامی نے بڑے ہی پیارے انداز میں ڈھیروں