وبال سر پر لیے ہوئے تھا مگر مجھے کوئی احساس نہ تھا۔ آخر دنیا میں جتنا بھی جی لوں بالآخرایک دن موت کا جام پینا پڑے گا، اپنے دوست احباب کو چھوڑ کر اندھیری قبر میں اتر نا پڑیگا اور اپنے برے اعمال کی سزا بھگتنی پڑے گی۔
قسمت اچھی تھی جواس پر فتن دور میں مسلمانوں کی قبر وآخرت کی تیاری کا ذہن دینے والی تبلیغ وقران وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا مشکبار مدنی ماحول میسر آگیا۔ مدنی ماحول میں آنے کی سبیل کچھ یوں بنی کہ ایک دن حسب عادت بد گناہوں کے عادی دوست نمادشمنوں کے ساتھ بیٹھا ہواتھا ،دریں اثنا نمازِ مغرب کی اذانیں فضا میں گونجنے لگیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دربار سے ہر ایک منادی اس پاک ذات کی وحدانیت اور اس کے محبوب کی رسالت کی گواہی دینے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو فلاح و کامرانی کی دعوت دینے لگا۔ بہت سے مسلمان حکم الٰہی کی بجاآواری کے لیے جانبِ مسجد رواں دواں تھے مگر ہم تمام دوست نمازوں سے یکسر غافل ہوکر اپنی موج مَستی میں گم تھے۔ دَرِیں اَثنا دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک عاشقِ رسول اسلامی بھائی ہمارے قریب سے گزرتے ہوئے رک گئے اور ہمیں نماز سے غافل دیکھ کر قریب تشریف لائے اور انتہائی محبت بھرے انداز میں سلام کرتے ہوئے کہنے لگے: ’’نماز کا وقت ہوگیا ہے ،آپ بھی نماز ادافرمالیں۔‘‘ نجانے ان کی دعوت میں ایساکیا اثر تھا کہ میں اس قدر متأثر ہواکہ اکیلا ہی ان کے ساتھ جانب مسجد بارگاہ الٰہی میں سربسجود ہونے کے لیے لَرزِیدہ لَرزِیدہ قدموں سے چل دیا، سب