بندہ کسی کو پرآسائش زندگی پر غور وفکر کرتا ہے تو اسے اپنی زندگی پر سخت تشویش ہوتی ہےیوں بندہ رحمت الٰہی سے مایوس ہوجاتا ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ دوسروں پر نظر رکھنے کے بجائے اپنی زندگی پر غور وفکر کرے ، رب عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہوئے قناعت اختیار کرے،یہ مدنی ذہن بنائے کہ جس رب عَزَّوَجَلَّ نے اسے پرآسائش زندگی عطا فرمائی ہے یقیناً وہ مجھے ویسی ہی زندگی عطا کرنے پر قادر ہے لیکن یہ اس کی مشیت ہے اور میں اس کی مشیت پر راضی ہوں۔ نیز بندہ اس بات پر بھی غور کرے کہ جو شخص دنیا میں جتنی بھی پرآسائش زندگی بسر کرے گا ہوسکتا ہے کل بروز قیامت اسے اتنا ہی سخت حساب وکتاب دینا پڑے، لہٰذا پرآسائش زندگی کی خواہش کرنے کے بجائے سادہ طرز زندگی اپنانے ہی میں عافیت ہے۔
(4)… مایوسی کا چوتھا سبب بری صحبت ہے۔جب بندہ ایسے دنیا دار لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے جو خود مایوسی کا شکار ہوتے ہیں تو ان کی صحبت کی وجہ سے یہ بھی مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ سب سے پہلے ایسے لوگوں کی صحبت ترک کرکے نیک پرہیزگار اور متقی لوگوں کی صحبت اختیار کرے، اللہ والوں کے پاس بیٹھے تاکہ مایوسی کے سیاہ بادل چھٹ جائیں اور رحمت الٰہی پر یقین کی بارش نازل ہو۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ 1 تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کا مشکبار مدنی ماحول بھی ایک اچھی صحبت فراہم کرتا ہے۔ ہزاروں لوگ اس مدنی ماحول سے وابستہ ہوئے، گناہوں بھری زندگی کو ترک کیا اور نیکیوں بھری زندگی