مایوسی کے تین اسباب و علاج:
(1)… مایوسی کا پہلا سبب جہالت ہے کہ بندہ اپنی جہالت اور کم علمی کے سبب رحمت الٰہی سے مایوسی جیسے موذی گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ دنیوی علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم بھی حاصل کرے، قرآن وحدیث کا علم حاصل کرے، جہنم میں لے جانے والے اعمال اوران پر ملنے والے عذابات پر غور وفکر کرے تاکہ اس کے دل میں خوف آخرت پیدا ہو، جنت میں لے جانے والے اعمال اور ان پر ملنے والے عظیم اجروثواب پر نظر رکھے تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت کاملہ پر اس کا یقین مزید پختہ ہوجائے اور مایوسی اس سے دور بھاگ جائے۔
(2)…مایوسی کا دوسرا سبب بے صبری ہے۔ کسی آزمائش یا مصیبت پر بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے واویلا کرنے سے رحمت الٰہی سے مایوسی پیدا ہوتی ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ مصیبتوں پر صبر کرنے کی عادت ڈالے کیوں بے صبر ی کی وجہ سےنکلنے والے کلمات بسا اوقات ’’کفریات‘‘پر مشتمل ہوتے ہیں جو ایمان کو برباد کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ کسی بھی تکلیف یا مصیبت پر بندہ یہ مدنی ذہن بنائے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے مجھے اس آزمائش میں مبتلا کیا ہے تو میں اس پر بے صبری کا مظاہرہ کرکے اجر وثواب کیوں ضائع کروں ؟ بلکہ میں اس کی رحمت کاملہ پر نظر رکھوں اور اس مصیبت یا پریشانی سے نجات کے لیے اس کی بارگاہ میں التجا کروں۔
(3)… مایوسی کا تیسرا سبب دوسروں کی پر آسائش زندگی پر نظر رکھنا ہے۔جب