Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
325 - 341
الایمان: ’’تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
`ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: ﴿ وَمَنۡ یَّقْنَطُ مِنۡ رَّحْمَۃِ رَبِّہٖۤ اِلَّاالضَّآلُّوۡنَ ﴿۵۶﴾ ﴾(پ۱۴، الحجر: ۵۶) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اپنے ربّ کی رحمت سے کون ناامید ہو مگر وہی جو گمراہ ہوئے۔‘‘
`ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: ﴿ َلَا تَایۡـَٔسُوۡا مِنۡ رَّوْحِ اللہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوْحِ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوۡنَ ﴿۸۷﴾ ﴾ (پ۱۳، یوسف: ۸۷) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو بیشک اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ۔‘‘
حدیث مبارکہ، مایوسی کبیرہ گناہ ہے:
حضور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے سوال کیا گیا :’’کبیرہ گناہ کون سے ہیں ؟‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک کرنا، اس کی رحمت سے مایوس ہونا اور اس کی خفیہ تدبیر سے بے خوف رہنا اور یہی سب سے بڑا گناہ ہے۔‘‘(1)
مایوسی کاحکم: 
  اللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت سے مایوس ہو کر گناہوں میں مشغول ہوجانا ناجائز وحرام اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الزواجر، مقدمۃ فی تعریف الکبیرۃ، ج۱، ص۲۲۔