محبت اور احترام پیدا ہو جبکہ منافق ہمیشہ بُرائیاں اور عیوب دیکھتاہے ۔‘‘(1) اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنی ذات سے نفاق کو دور کرنے کی عملی کوشش کرے ۔
(6)…تجسس کا چھٹاسبب شہرت اور مال ودولت کی ہوس ہے۔دوسروں کے عیب واضح کرکے شہرت حاصل کرنا آج کل ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے،آج کل لوگوں نے کئی ایسے ذرائع اختیار کیے ہوئے ہیں جن میں پہلے تومسلمانوں کے عیوب تلاش کیے جاتے ہیں پھر دیگر ذرائع سے اُس کی تشہیر کرکےسستی شہرت اورمالی نفع حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنایوں مدنی ذہن بنائے کہ مسلمانوں کی دل شکنی اور حق تلفی مَعَاذَ اللہ وہ موذی مرض ہے کہ جو اعمال صالحہ کے پورے جسم کو بیکار کردیتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا احمد بن حر ب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’کئی لوگ نیکیوں کی کثیر دولت لئے دنیا سے مالدار رخصت ہوں گے مگر بندوں کی حق تلفیوں کے باعث قیامت کے دن اپنی ساری نیکیاں کھو بیٹھیں گے اور یوں غریب و نادار ہوجائیں گے۔‘‘ (2)بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے ایذاء مسلم کو بر ے خاتمے کے اسباب میں شمار کیا ہے۔ (3)لہٰذا مسلمانوں کے عیوب تلاش کرنے سے بندہ اپنے آپ کو بچائے کہ اس میں سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں۔
(7)… تجسس کا ساتواں سبب ’’منفی سوچ‘‘ ہے کہ جب کوئی شخص منفی سوچ کا حامل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احیاء العلوم، ج۲، ص۶۴۰۔
2…تنبیہ المغترین، من اخلاقھم کثرت خوفھم۔۔۔الخ، ص۴۷۔
3…شرح الصدور، ص ۲۷۔