عیوب کی تلاش میں لگا رہتاہے،پھر یہ عیب اِدھر اُدھربیان کرکے فتنے کا باعث بنتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ چغل خوری کی وعیدوں کو پیش نظر رکھے اور ان سے بچنے کی کوشش کرے۔ چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: (۱)’’چغل خور جنت میں ہر گز داخل نہ ہوگا۔‘‘(1) (۲) ’’چغل خور کو آخرت سے پہلے اس کی قبر میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘(2)
(4)…تجسس کا چوتھاسبب چاپلوسی کی عادت ہے۔بعض اَفراد اپنے ہم منصب کے عیوب بلاضرورت شرعی اپنے افسر یا نگران وغیرہ تک پہنچا کراپنا اعتماد قائم کرتے اور ذاتی مفادات بھی حاصل کرلیتے ہیں ،ایسے لوگوں کی ترقی کا تمام تردارو مدار ’’چاپلوسی‘‘ پر ہوتا ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لائے اور مسلمانوں کی چاپلوسی سے بچے۔نیز یہ مدنی ذہن بنائے کہ کسی دوسرے مسلمان کی چاپلوسی کرکے جو مجھے ترقی اور عزت ملے گی وہ کس کام کی؟ یقیناً ایسی عزت کسی نہ کسی دن خاک میں مل جائے گی۔ ایسی عزت کا کیا فائدہ؟
(5)…تجسس کا پانچواں سبب نفاق ہےاسی لیے امام غزالی فرماتے ہیں : ’’مومن ہمیشہ اپنے دوست کی خوبیوں کوسامنے رکھتا ہے تاکہ اس کے دل میں عزت،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…بخاری ، کتاب الادب، باب مایقرأمن النمیمہ، ج۴، ص۱۱۵، حدیث: ۶۰۵۶۔
2…بخاری،کتاب الوضو،باب من الکبائر ۔۔۔ الخ، ج۱، ص۹۵، حدیث:۲۱۶مفھوما۔