کے عیوب تلاش کرنے میں لگی رہتی ہیں۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے دل کو مسلمانوں کے بغض وکینہ سے پاک وصاف کرے، اپنے دل میں مسلمانوں کی محبت پیدا کرنے کے لیے اس فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پیش نظر رکھے:’’جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کی طرف محبت بھر ی نظر سے دیکھےاور اس کے دل یا سینے میں عداوت نہ ہوتو نگاہ لوٹنے سے پہلے دونوں کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔‘‘ (1)اس طرح مسلمانوں کی محبت دل میں پیدا ہوگی اور ان کے عیوب تلاش کرنے سے بھی نجات نصیب ہوگی۔
(2)…تجسس کا دوسراسبب حسد ہےکیوں کہ حاسد کسی بھی قیمت پر محسود (یعنی جس سے حسد کیا جائے اس) کی عزت افزائی کی خواہش نہیں کرتا، بلکہ ہروقت اس کی نعمت چھن جانے کی خواہش رکھتا ہے۔لہٰذا حاسد عیب تلاش کرکے محسود کو بدنام کرنے کی کوشش میں لگا رہتاہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ حسد سے چھٹکارا حاصل کرے حسد کی تباہ کاریوں پر غور کرے کہ حسد ایک ایسا گناہ ہے جو نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو، حسد اللہ عَزَّوَجَلَّ ورسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ناراضگی کا سبب ہے۔ نیز حاسدین کے عبرت ناک انجام پر بھی غور کرتا رہے۔
(3)…تجسس کا تیسراسبب چغل خوری کی عادت ہے۔محبتوں کے چورچغل خو ر کو کسی نہ کسی منفی پہلو کی ضرورت ہوتی ہےاسی لیےوہ ہر وقت مسلمانوں کے پوشیدہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…شعب الایمان، باب في الحث على ترك الغل والحسد، ج۵، ص۲۷۱، حدیث: ۶۶۲۴ملتقطا۔