ساقط نہیں ہوتا جب تک اس کے خلاف دو عادل شخص گواہی نہ دیں۔‘‘ (1)
حکایت، تجسس کے سبب واپس آگئے:
حضرت سیِّدُنا عامر شعبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے ایک ہم مجلس بھائی کو نہ پایا تو ان کی تلاش میں حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے۔ آپ نے سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’آؤ! ہم فلاں شخص کے گھر جاکر دیکھتے ہیں۔‘‘ جب دونوں اس گھر کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ اس کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور ان کا وہ ساتھی اس گھر میں موجود ہے، نیز اس کے ساتھ ایک خاتون بھی ہے جس نے اسے کچھ برتن میں ڈال کر دیا اور وہ کھانے لگا۔ سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’اچھا تو یہ وہ کام ہے جس کی وجہ سے وہ ہم سے دور ہے۔‘‘ سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: ’’حضور! آپ کو کیا معلوم کہ اس برتن میں کیا ہے؟‘‘ یہ سن کر سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خوف خدا سے ڈرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ہمیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں یہ تجسس کے زمرے میں نہ آتا ہو۔‘‘ سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: ’’حضور! یہ تجسس ہی ہے۔‘‘ فرمایا: ’’پھر اس کی توبہ کیا ہے؟‘‘ عرض کیا: ’’حضور! آپ پر تو اس کا وہ معاملہ ظاہر ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احیاء العلوم، ج۲، ص۱۱۶۸۔