تجسس کے بارے میں تنبیہ:
تجسس یعنی اپنے کسی بھی مسلمان بھائی کے خفیہ عیوب کو تلاش کرنا یا اس کے لیے سعی کرنا شرعاً ممنوع ہے۔
تجسس کی مختلف صورتیں :
حضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دوسرے کے گھر میں کان لگائے تاکہ وہاں سے باجوں کی آواز سنے یا ناک کو اس لیے صاف کرے تاکہ شراب کی بو سونگھ سکے اور نہ ہی کپڑے میں چھپی ہوئی شے کو اس نیت سے ٹٹولے کہ باجے وغیرہ کی پہچان ہو اور نہ اس کے پڑوسیوں سے اس کے گھر میں ہونے والے معاملات دریافت کرے۔ لیکن اگر پوچھے بغیر خود ہی دو عادل شخص اسے بتادیں کہ فلاں شخص اپنے گھر میں شراب پی رہا ہے یا فلاں کے گھر میں شراب ہے جو اس نے پینے کےلیے رکھی ہے تو اس وقت وہ گھر میں داخل ہوسکتا ہے اور اجازت لینا بھی لازم نہیں ہوگا کیونکہ برائی کو ختم کرنے کے لی دوسرے کی ملک میں داخل ہو کر چلنا ایسا ہی ہے جیسے برائی سے منع کرتے ہوئے ضرورت پڑنے پر کسی کا سر پھاڑ دینا۔ البتہ! جن لوگوں کی خبر تو قبول کی جاتی ہے لیکن شہادت نہیں ، ان کے بتانے پر کسی کے گھر میں داخل ہوجانا محل نظر ہے۔ بہتر تو یہ ہے کہ اس سے باز رہے کیونکہ صاحب خانہ اس کا حق رکھتا ہے کہ بغیر اس کی اجازت کے کوئی اس کے گھر میں داخل نہ ہو اور مسلمان کو ثابت شدہ حق اس وقت تک