حدیث مبارکہ،محشر کی رسوائی کا سبب:
اللہ عَزَّوَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے وہ لوگو! جو زبانوں سے توایمان لے آئے ہو مگر تمہارے دل میں ابھی تک ایمان داخل نہیں ہوا! مسلمانوں کوایذاء مت دو، اور نہ ان کے عیوب کو تلاش کرو کیونکہ جواپنے مسلمان بھائی کاعیب تلاش کرے گا اللہ عَزَّوَجَلَّاُس کاعیب ظاہر فرما دے گا اور اللہ عَزَّوَجَلَّجس کاعیب ظاہر فرما دے تو اُسے رسوا کر دیتا ہے اگرچہ وہ اپنے گھر کے تہہ خانہ میں ہو۔‘‘(1)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’غیبت کرنے والوں ، چغل خور وں اورپاکباز لوگوں کے عیب تلاش کرنے والوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ (قیامت کے دن )کتّوں کی شکل میں اٹھائے گا۔(2)
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’خیال رہے کہ تمام انسان قبروں سے بشکل انسانی اٹھیں گے پھر محشر میں پہنچ کر بعض کی صورتیں مسخ ہو جائیں گی۔‘‘(3)(یعنی بگڑ جائیں گی مَثَلاً مختلف جانوروں جیسی ہوجائیں گی۔)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…شعب الایمان ، باب فی تحریم اعراض الناس، ج۵، ص۲۹۶، حدیث: ۶۷۰۴ بتغیر۔
2…التّوبیخ والتّنبیہ لابی الشیخ الاصبھانی، ص۹۷ ، رقم۲۲۰، الترغیب والترھیب، ج۳، ص۳۲۵ ، حدیث ۱۰۔
3…مراٰۃ المناجیح، ج۶ ،ص۶۶۰۔