آیت مبارکہ:
اللہ عَزَّوَجَلَّقرآن پاک میں اِرشاد فرماتا ہے:﴿لَا تَجَسَّسُوْا﴾(پ۲۶، الحجرات: ۱۲) ترجمۂ کنزالایمان: ’’عیب نہ ڈھونڈو ۔‘‘
صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْہَادِی ’’خزائن العرفان ‘‘ میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی مسلمانوں کی عیب جوئی نہ کرو اور ان کے چُھپے حال کی جستجو میں نہ رہوجسے اللہ تعالٰی نے اپنی ستّاری سے چُھپایا ۔ حدیث شریف میں ہے :گمان سے بچو گمان بڑی جھوٹی بات ہے اور مسلمانوں کی عیب جوئی نہ کرو ، ان کے ساتھ حرص و حسد ، بغض ، بے مروتی نہ کرو، اے اللہ تعالی کے بندو بھائی بنے رہو جیسا تمہیں حکم دیا گیا ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، اس پر ظلم نہ کرے ، اس کو رسوا نہ کرے ، اس کی تحقیر نہ کرے ، تقوٰی یہاں ہے ، تقویٰ یہاں ہے ، تقویٰ یہاں ہے۔ (اور یہاں کے لفظ سے اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا۔) آدمی کے لئے یہ برائی بہت ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر دیکھے ، ہر مسلمان مسلمان پرحرام ہےاس کا خون بھی ، اس کی آبرو بھی ، اس کا مال بھی ، اللہ تعالٰیتمہارے جسموں اور صورتوں اور عملوں پر نظر نہیں فرماتا لیکن تمہارے دلوں پر نظر فرماتا ہے ۔ (بخاری ومسلم) حدیث: جو بندہ دنیا میں دوسرے کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالٰی روزِ قیامت اُس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد