قیمتی اور خوش رنگ لباس میں ملبوس بڑی خوش وخرم نظر آرہی تھی اور اس کے ساتھ صرف ایک عورت گھر میں موجود تھی کوئی اور نہ تھا ۔ مجھے بڑا تعجب ہوا اور میں نے اس عورت سے پوچھا:’’ جب میں پچھلی مرتبہ تمہارے پاس آیا تھاتو تم کثیر نعمتوں کے باوجود غمگین اور نہایت افسردہ تھی لیکن اب خادموں ، لونڈیوں اور دولت کی عدم موجودگی میں بھی بہت خوش اور مطمئن نظر آرہی ہو، اس میں کیا راز ہے ؟‘‘
تو وہ عورت کہنے لگی:’’تم تعجب نہ کرو ، بات در اصل یہ ہے کہ جب پچھلی مرتبہ تم مجھ سے ملے تو میرے پاس دنیاوی نعمتوں کی بہتات تھی، میرے پاس مال ودولت اور اولاد کی کثرت تھی ، اس حالت میں مجھے یہ خوف ہوا کہ شاید! میرا رب 1مجھ سے ناراض ہے، اس وجہ سے مجھے کوئی مصیبت اور غم نہیں پہنچتا ورنہ اس کے پسندیدہ بندے تو آزمائشوں اور مصیبتوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس وقت یہی سوچ کر میں پریشان و غمگین تھی اور میں نے اپنی حالت ایسی بنائی ہوئی تھی ۔اس کے بعد میرے مال اور میری اولاد پر مسلسل مصیبتیں ٹو ٹتی رہیں ،میرا سارا اثاثہ ضائع ہوگیا ، میرے تمام بیٹوں اوربیٹیوں کاانتقال ہوگیا،خدّام ولونڈیاں سب جاتی رہیں اور میری تمام دنیوی نعمتیں مجھ سے چھن گئیں۔ اب میں بہت خوش ہوں کہ میرا رب عَزَّوَجَلَّ مجھ سے خوش ہے اسی وجہ سے تو اس نے مجھے آزمائش میں مبتلا کیا ہے۔پس میں اس حالت میں اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھ رہی ہوں ، اسی لئے میں نے اچھا لباس پہنا ہوا ہے۔‘‘
حضرت سیِّدُنا ابن یسار مسلم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْمُنْعِم فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں