ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’دوخصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں بھی ہوں گی اللہ عَزَّوَجَلَّاسے صابرو شاکر لکھ دے گا اور جس میں نہیں ہوں گی نہ اسے شاکر لکھے گا اور نہ ہی صابر ۔وہ دو خصلتیں یہ ہیں : (۱) جو اپنے دین میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھ کر اس کی پیروی کرے اوردنیوی معاملہ میں اپنے سے نيچے والے کو دیکھے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے اس شخص پر جو فضلیت دی ہے اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے صابر وشاکر لکھ لیتا ہے۔ (۲)جو دین میں اپنے سے نيچے والے کو دیکھے اور دنیوی معاملے میں اوپر والے کو دیکھے پھر اپنی محرومی پر افسوس کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّنہ اسے صابر لکھتا ہے اور نہ ہی شاکر۔‘‘(1)
غم دنیا کے بارے میں تنبیہ:
کسی بھی دنیوی معاملے پر چاہے وہ مالی نقصان کی صورت میں ہو، کسی تکلیف کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں ہو غمگین ہونا ایک فطری عمل ہے، لیکن کسی بھی دنیوی معاملے پر غیر شرعی واویلا کرنا، ماتم کرنا، دیگر مسلمانوں کو کوسنا یا اس مصیبت کا ذمہ دار ٹھہرانا، یا اس پر بدشگونی، غیبت، تہمت، بدگمانی بھرا کلام کرنا، یا اس طرح اپنے غم کا اظہار کرنا جس سے صبر کا دامن چھوٹ جائے، ثواب کی اُمید ختم ہوجائے یا قضائے الٰہی پر عدم رضا کا اظہار ہو یہ تمام صورتیں غیر شرعی، ناجائز اور ممنوع ہیں۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…ترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ ،ج۴، ص۲۲۹، حدیث: ۲۵۲۰۔