Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
310 - 341
کی جگہ صبر اختیا ر کرو ۔ غم سے مراد یہاں انسان کی وہ حالت ہے جس میں صبر اور رضا بقضائے الٰہی اور امید ثواب باقی نہ رہے ۔ اور خوشی سے وہ اِترانا مراد ہے جس میں مست ہو کر آدمی شکر سے غافل ہوجائے۔ اور وہ غم و رنج جس میں بندہ اللہ تعالٰی کی طرف متوجّہ ہو اور اس کی رضا پر راضی ہو ایسے ہی وہ خوشی جس پر حق تعالی کا شکر گزار ہو ممنوع نہیں۔ حضرت امام جعفر صادق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: اے فرزند آدم کسی چیز کے فقدان پر کیوں غم کرتا ہے؟ یہ اس کو تیرے پاس واپس نہ لائے گا اور کسی موجود چیز پر کیوں اتراتا ہے؟ موت اس کو تیرے ہاتھ میں نہ چھوڑ ے گی ۔‘‘
 حدیث مبارکہ، دنیوی غموں سے فراغت پالو :
حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مرو ی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس قدرہوسکے دنیوی غموں سے فراغت پالو کیونکہ جسے سب سے زیادہ غم دنیاکا ہوگا،   اللہ عَزَّوَجَلَّاس کے پیشے کو شہرت دے گا اور اس کا فقر اس پر ظاہر فرمادے گا اور جسے آخرت کا غم سب سے زیادہ ہوگا   اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے کا م جمع فرمادے گا اور اس کے دل کو غنا سے بھرد ے گا اور جو بندہ اپنے دل سے   اللہ عَزَّوَجَلَّکی طر ف متو جہ ہوتا ہے   اللہ عَزَّوَجَلَّمومنین کے دلوں کو اس کے لئے محبت اور رحمت کے جذبہ سے سرشار فرماکر اس کے پاس بھیجتا ہے اور   اللہ عَزَّوَجَلَّاسے ہر بھلائی جلد عطا فرماتا ہے۔‘‘(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…مجمع الزوائد ، کتاب الزھد ،باب فیمن احب الدنیا۔۔۔ الخ،ج ۱۰، ص ۴۳۲،حدیث:۱۷۸۱۶۔