حاصل کرلے، اس سلسلے میں دارالافتاء اہل سنت سے رابطہ کرنا بھی بہت مفید ہے۔
(2)… اسر اف کا دوسرا سبب غرور و تکبر ہے۔ بسا اوقات دوسروں پراپنی برتری ثابت کرنے کے لیے بے جا دولت خرچ کی جاتی ہے ۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ غرور و تکبر کے نقصانات پر غور وفکر کرے اور اس سے بچنے کی کوشش کرے، متکبر شخص اللہ عَزَّوَجَلَّکو ناپسند ہے، خود رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے متکبر کے لیے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا، احادیث میں متکبر کو بدترین شخص قرار دیا گیا ہے، متکبر کو کل بروز قیامت ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کے دل میں تھوڑا سا بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوسکے گا۔ تکبر کی تباہ کاریاں جاننے اور مزید معلومات کے لیے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’تکبر‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔
(3)… اسر اف کا تیسراسبب اپنی واہ واہ کی خواہش ہے۔دوسروں سے داد وصول کرنے لیے پیسے کا بے جا استعمال ہمارے معاشرے میں عام ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ لوگوں سے تعریفی کلمات سننے کی خواہش کو اپنی ذات سے ختم کرے اور یہ مدنی ذہن بنائے کہ لوگوں میں معزز ہونا کوئی معنٰی نہیں رکھتا بلکہ سب سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی وپرہیزگار ہے۔نیز بندہ حب جاہ کے اَسباب و علاج کامطالعہ کرے۔
(4)… اسر اف کا چوتھاسبب شہرت کی خواہش ہے۔بے حیائی پرمشتمل فنکشن اور اس طرح کی دیگر خرافات میں خرچ کی جانے والی رقم کا اصل سبب شہرت کی طلب