کی گئی:’’ایک یادگاری تختی بنوا لیتے ہیں ،آپ اس کی پردہ کشائی فرمادیجئے گا۔‘‘ توفرمایا :’’ پردہ کشائی کرنے اور سنگ بنیاد رکھنے میں فرق ہے۔ پھر چونکہ ابھی میدان ہی ہے اس لئے شاید وہ تختی بھی ضائع ہوجائے گی۔ ‘‘
بالآخرامیرِاہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا کہ’’ جہاں واقعی ستون بنا نا ہے اس جگہ پر ہتھوڑے مار کر کھودنے کی رسم ادا کرلی جائے اوراس کو ’’سنگِ بنیاد رکھنا‘‘ کہنے کے بجائے ’’تعمیر کا آغاز‘‘ کہا جائے۔‘‘ چنانچہ۲۲ ربیع النور شریف ۱۴۲۶ ہجری بمطابق یکم مئی ۲۰۰۵ عیسوی بروز اتوار آپ کی ساداتِ کرام سے محبت میں ڈوبی ہوئی خواہش کے مطابق ۲۵سیِّدمَدَنی منوں نے اپنے ہاتھوں سے مخصوص جگہ پر ہتھوڑے چلائے ، آپ خودبھی اس میں شریک ہوئے اور اس نرالی شان سےفیضان مدینہ (صحرائے مدینہ، ٹول پلازہ، سپر ہائی وے باب المدینہ کراچی) کے تعمیری کام کا آغاز ہوا۔(1)
اسراف کے اسباب و علاج:
(1)… اسر اف کا پہلا سبب لاعلمی اور جہالت ہے۔بندہ شرعی معلومات کے بغیر جب کسی کام میں مال خرچ کرتا ہے تو اس میں اِسراف کے کئی پہلو ہوتے ہیں لیکن اسے اپنی جہالت کی وجہ سے اِحساس تک نہیں ہوتا۔اس کا علا ج یہ ہے کہ بندہ کسی بھی کام میں مال خرچ کرنے سے پہلے علمائے کرام اور مفتیانِ کرام سے شرعی رہنمائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…تعارف امیر اہلسنت،ص۴۹۔