Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
304 - 341
عَنْہکے پاس سے گزرے جب وہ وضو کررہے تھے تو ارشاد فرمایا: ’’ اے سعد! یہ اسراف کیسا؟‘‘ عرض کیا: ’’رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا وضو میں بھی اسراف ہے؟‘‘ فرمایا: ’’ہاں !اگرچہ تم بہتی نہر پر ہو ۔‘‘(1)ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’ہر اس چیز کو کھالینا جس کا دل کرے یہ اسراف ہے۔‘‘ (2)
اسراف کاحکم:
اسراف اور فضول خرچی خلاف شرع ہو تو حرام اورخلافِ مروت ہوتو مکروہ تنزیہی ہے ۔(3)
حکایت، امیر اہلسنت کا محتاط انداز:
جب شیخِ طریقت امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خدمت میں صحرائے مدینہ (باب المدینہ کراچی) میں فَیضانِ مد ینہ کا سنگِ بنیاد رکھنے کے لئے عرض کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ ’’سنگ ِبنیاد میں عموماً کھودے ہوئے گڑھے میں کسی شخصیت کے ہاتھو ں سے سیمنٹ کا گارا ڈلوا دیا جاتا ہے، بعض جگہ ساتھ میں اینٹ بھی رکھوالی جاتی ہے لیکن یہ سب رسمی ہوتا ہے ، بعد میں وہ سیمنٹ وغیرہ کام نہیں آتی ۔مجھے تو یہ اِسراف نظر آتا ہے اور اگر مسجد کے نام پر کئے ہوئے چندے کی رقم سے اس طرح کا اسراف کیا جائے تو توبہ کے ساتھ ساتھ تاوان یعنی جو کچھ مالی نقصان ہوا وہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔‘‘ عرض
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…ابن ماجۃ، کتاب الطھارۃ و سننھا ،باب ما جاء فی القصد۔۔۔الخ، ج۱، ص۲۵۴، حدیث: ۴۲۵۔
2…ابن ماجۃ، کتاب الاطعمۃ، باب من الاسراف ۔۔۔الخ، ج۴، ص۴۹، حدیث: ۳۳۵۲۔
3…الحدیقۃ الندیۃ، الخلق السابع والعشرون۔۔۔الخ،ج۲، ص۲۸۔