Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
302 - 341
خَیْرَفِی الْاِسْرَافِ یعنی اسراف (فضول خرچی) میں کوئی بھلائی وخیر نہیں ہے۔‘‘ اسی طرح ’’لَا اِسْرَافَ فِی الْخَیْرِ یعنی نیکی اور بھلائی کے کاموں میں کوئی اسراف (فضول خرچی) نہیں۔‘‘ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ 1 ربیع الاول کے مبارک مہینے میں ہرسال لاکھوں مسلمان اپنے آقا ومولا، حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جشن ولات کے موقع پر خوشیاں مناتے ہیں ، اپنے گھروں ، دکانوں ، محلوں اور گلیوں کو سجاتے ہیں ، سبز سبز پرچم لگاتے اور لہراتے ہیں ، رنگ برنگے بلب اور دیے روشن کرتے ہیں ، صدقہ وخیرات کرتے ہیں ، لنگر ونیاز کا اہتمام کرتے ہیں ، محافل ذکر ونعت منعقد کرتے ہیں ، علمائے کرام کو بلاتے اور ان سے ذکر ولادت شریف سنتے ہیں ، اسی طرح صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ، اہل بیت عظام، اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  کے اَعراس پر اُن کے ایصالِ ثواب کے لیے بڑا اہتمام کرتے ہیں ، یقیناً یہ تمام بھلائی کے کام ہیں اور بھلائیوں کے کاموں میں کوئی اسراف نہیں۔ 
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ۵۶۱ صَفحات پر مشتمل کتاب ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘ (مکمَّل) صفحہ۱۷۴پر ہے۔اعلی حضرت، عظیم البرکت، مجدددین وملت، پروانۂ شمع رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن سے پوچھا گیا: ’’میلاد شریف میں جھاڑ (یعنی پانچ شاخوں والی مشعل)،فانوس، فروش وغیرہ سے زیب وزینت اِسراف ہے یا نہیں ؟‘‘ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے ارشاد فرمایا: ’’علماء فرماتے ہیں : لَاخَیْرَ فِی الْاِسْرَافِ وَلَا اِسْرَافَ فِی الْخَیْر (یعنی اسراف