ایک درہم معصیت میں خرچ کرو تو اِسراف ۔‘‘
ایک اور مقام پر اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:﴿ َّکُلُوۡا وَاشْرَبُوۡا وَلَا تُسْرِفُوۡا ۚؕ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِیۡنَ ﴿۳۱﴾٪ ﴾ (پ۸، الاعراف: ۳۱) ترجمۂ کنزالایمان: ’’کھاؤ اور پیؤ اور حد سے نہ بڑھو بے شک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں۔‘‘
صدرالافاضل حضرت علامہ مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی ’’خزائن العرفان‘‘ میں اِس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ شانِ نُزول : کَلبی کا قول ہے کہ بنی عامر زمانۂ حج میں اپنی خوراک بہت ہی کم کر دیتے تھے اور گوشت اور چکنائی تو بالکل کھاتے ہی نہ تھے اور اس کو حج کی تعظیم جانتے تھے ، مسلمانوں نے انہیں دیکھ کر عرض کیا یارسولَ اللہ ہمیں ایسا کرنے کا زیادہ حق ہے ، اس پر یہ نازِل ہوا کہ کھاؤ اور پیو گوشت ہو خواہ چکنائی ہو اور اِسراف نہ کرو اور وہ یہ ہے کہ سیر ہو چکنے کے بعد بھی کھاتے رہو یا حرام کی پرواہ نہ کرو اور یہ بھی اِسراف ہے کہ جو چیز اللہ تعالٰی نے حرام نہیں کی اس کو حرام کر لو ۔ حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا کھا جو چاہے اور پہن جو چاہے اِسراف اور تکبّر سے بچتا رہ ۔ مسئلہ : آیت میں دلیل ہے کہ کھانے اور پینے کی تمام چیزیں حَلال ہیں سوائے ان کے جن پر شریعت میں دلیلِ حُرمت قائم ہو کیونکہ یہ قاعدہ مقرَّرہ مسلَّمہ ہے کہ اصل تمام اشیاء میں اِباحت ہے مگر جس پر شارع نے مُمانَعت فرمائی ہو اور اس کی حُرمت دلیلِ مستقل