Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
299 - 341
والی جگہوں پر خرچ کرنا، اجنبی لوگوں پر اس طرح خرچ کرنا کہ اپنے اہل وعیال کو بے یارومددگار چھوڑ دینا اِسراف کہلاتاہے۔(1)
آیت مبارکہ :
اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:﴿ وَلَا تُسْرِفُوۡا ؕ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾ۙ ﴾(پ۸، الانعام: ۱۴۱) ترجمۂ کنزالایمان: ’’بے جا نہ خرچو بے شک بے جا خرچنے والے اسے پسند نہیں۔‘‘
صدرالافاضل حضرت علامہ مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی  ’’خزائن العرفان‘‘ میں اِس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’حضرت مُترجِم قُدِّسَ سِرُّہ (یعنی اعلی حضرت امام اہلسنت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) نے اِسراف کا ترجمہ بے جا خرچ کرنا فرمایا ، نہایت ہی نفیس ترجمہ ہے ۔ اگر کُل مال خرچ کر ڈالا اور اپنے عیال کو کچھ نہ دیا اور خود فقیر بن بیٹھا تو سدی کا قول ہے کہ یہ خرچ بے جا ہے اور اگر صدقہ دینے ہی سے ہاتھ روک لیا تو یہ بھی بے جا اور داخلِ اِسراف ہے جیسا کہ سعید بن مُسیّب رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ سفیان کا قول ہے کہ اللہ  کی طاعت کے سوا اور کام میں جو مال خرچ کیا جاوے وہ قلیل بھی ہو تو اِسراف ہے ۔ زُہری کا قول ہے کہ اس کے معنٰی یہ ہیں کہ معصیت میں خرچ نہ کرو ۔ مجاہد نے کہا کہ حق اللہ میں کوتاہی کرنا اسراف ہے اور اگر ابو قُبَیس پہاڑ سونا ہو اور اس تمام کو راہِ خدا میں خرچ کر دو تو اسراف نہ ہو اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الحدیقۃ الندیۃ،الخلق السابع و العشرون۔۔۔الخ،ج۲، ص۲۸۔