بچائے، یہ بھی اپنا مدنی ذہن بنائے اگر مجھے کوئی منصب یا عہدہ نہیں ملا توہوسکتا ہے میرے حق میں یہی بہتر ہو، مجھے یہ عہدہ نہ دے کر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کئی مصیبتوں اور پریشانیوں سے نجات عطا فرمادی ہو۔لہٰذا میں اپنے بھائی کو اس کا قصور وار کیوں ٹھہراؤں اور اس سے شماتت یعنی اس کو مصیبت پہنچنے پر کیوں خوشی کا اظہار کروں ؟
(6)…شَمَاتَت کا چھٹا سبب بدگمان ہونا ہے۔جب بندہ کسی سے بدظن ہوجاتا ہے تو خواہ کتنا ہی نیکوکا ر ہولیکن بدگمانی کی رسی اسے بلندیوں سے کھینچ کر پستیوں کی طرف دھکیل دیتی ہے، جیسے ہی اس کے بھائی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو فوراً خوش ہوجاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہےکہ بندہ مسلمانوں سے بدگمان اور بدظن ہونے کے بجائے ان کے بارے میں اچھا گمان رکھے، خواہ مخواہ اپنے دماغ میں مسلمانوں کے متعلق وسوسوں کو ہرگز جگہ نہ دے، بلکہ اس طرح کے وسوسوں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آہستہ آہستہ اس موذی مرض سے بھی نجات مل ہی جائے گی۔بدگمانی جیسے مہلک اور موذی مرض سے نجات کے لیے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’بدگمانی‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(44)…اسراف
اِسراف کی تعریف:
جس جگہ شرعاً ، عادۃً یا مروۃً خرچ کرنا منع ہو وہاں خرچ کرنا مثلاً فسق وفجور وگناہ