Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
294 - 341
 کیسی مدنی سوچ رکھتے تھے، اپنے فائدے پر   اللہ عَزَّوَجَلَّکا شکر ادا کرنے پر اس لیے ندامت اختیار کی کہ اگرچہ میرا فائدہ ہوا لیکن اس کے ساتھ دیگر مسلمانوں کا نقصان بھی ہوا ہے، میرا شکر ادا کرنا کہیں شماتت (یعنی اپنے مسلمان بھائیوں کے نقصان پر خوشی کا اظہار کرنا) نہ بن جائے، اس خدشے پر نہ صرف اپنے نفس کو ملامت کیا بلکہ زندگی بھر کے لیے تجارت اور دکان چھوڑ دی۔ واقعی جو لوگ اپنے نفس کا محاسبہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں   اللہ عَزَّوَجَلَّکے فضل وکرم سے انہیں دیگر گناہوں سمیت شماتت سے بھی بچنے کا مدنی ذہن مل جاتا ہے، کل تک جو لوگوں کو مصیبت میں مبتلا دیکھ کر خوش ہوتے تھے آج وہ لوگوں کی مصیبتیں دور کرنے میں معاونت کرتے نظر آتے ہیں۔ ترغیب کے لیے ایک مدنی بہار پیش خدمت ہے:
شماتت ودیگر گناہوں سے نجات مل گئی:
باب المدینہ (کراچی) کے مقیم ایک اسلامی بھائی اپنی اصلاح کے احوال کچھ یوں بیان فرماتے ہیں : لوگوں کے دلوں میں اللہ رَبُّ الْعِزَّت کی محبت، حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عشق کی شمع فروزاں کرنے والی تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کی مشکبار فضاؤں میں آنے سے قبل میں بد اعمالیوں کی ہلاکت سے یکسر غافل تھا۔ ہر ایک کے ساتھ بدکلامی کرنا، بدتمیزی سے پیش آنا، گالی گلوچ کرنا اور لوگوں کو طرح طرح کی تکالیف اور مصیبتیں دے کر ان کے دل دکھانا اور پھر اس پر شماتت (یعنی ان کو مصیبت میں مبتلا دیکھ کر خوش