ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شماتت سے اللہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ مانگا کرتے اور فرماتے: ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں قرض کے غلبے اور دشمنوں کی شماتت سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘(1)
شماتت کا حکم:
شماتت یعنی کسی بھی مسلمان بھائی کی مصیبت پر خوش ہونا نہایت ہی مذموم اور ہلاکت میں ڈالنے والا امر ہے۔ خاص طورپر اس صورت میں کہ جب وہ اس مصیبت کو اپنی کرامت یا دعا کا نتیجہ سمجھے۔(2)
حکایت، عمر بھر کے لیے تجارت چھوڑ دی:
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا سری سَقَطِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی بازار میں دکان تھی، ایک دفعہ اس بازار میں آگ لگ گئی، پورا بازار جل گیا لیکن آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی دکان بچ گئی۔ جب آپ کو اس بات کی خبر دی گئی تو بے ساختہ آپ کے منہ سے نکلا: ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ۔‘‘ مگر فورا ہی اپنے نفس کو ملامت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’فقط اپنا مال بچ جانے پر میں نے کیسے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہہ دیا؟‘‘چنانچہ آپ نے تجارت کو خیر باد کہہ دیا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنے پر توبہ ومعافی کی خاطر عمر بھر کے لیے دکان چھوڑ دی۔(3)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ہمارے بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…نسائی، کتاب الاستعاذۃ، الاستعاذۃ من شماتۃ الاعداء، ص۸۷۱، حدیث: ۵۴۹۸۔
2…الحدیقۃ الندیۃ،الخلق السابع عشر۔۔۔الخ،ج۱، ص۶۳۱۔
3…احیاء العلوم، کتاب المحبۃ والشوق۔۔۔الخ، بیان حقیقۃ الرضا۔۔۔الخ، ج۵، ص۶۷۔