جھنجلایا ہوا کہا تم نے کیا بری میری جانشینی کی میرے بعد کیا تم نے اپنے رب کے حکم سے جلدی کی اور تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگا کہا اے میرے ماں جائے قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالیں تو مجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسا اور مجھے ظالموں میں نہ ملا۔‘‘
تفسیر خازن میں مذکورہ آیت مبارکہ کے اس حصے : ’’فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَاءَ تومجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسا۔‘‘ کے تحت لکھا ہے: ’’شماتت کی اصل یہ ہے کہ جس سے تو دشمنی رکھتا ہے یا جو تجھ سے دشمنی رکھتا ہے جب بھی کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو تُو اس پر خوش ہو۔جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نےفلاں کے ساتھ شماتت کی یعنی جب اسے کوئی مصیبت یا ناپسندیدہ بات پہنچی تو وہ اس پر خوش ہوا۔ اس آیت مبارکہ میں بھی یہی معنی مراد ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ہارون عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے کہا کہ آپ میرے ساتھ ایسا سلوک نہ کریں کہ جسے دیکھ کر دشمن شماتت کریں یعنی میری تکلیف پر وہ خوش ہوں۔‘‘(1)
حدیث مبارکہ، اپنے بھائی کی شماتت نہ کر:
حضرت سیِّدُنا واثلہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اپنے بھائی کی شماتت نہ کر یعنی اس کی مصیبت پر اظہار مسرت نہ کر کہ ﷲتعالٰی اس پر رحم کرے گا اور تجھے اس میں مبتلا کردے گا۔‘‘ (2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…خازن، پ۹، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۰، ج۲، ص۱۴۲۔
2…ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ ۔۔۔ الخ، ج۴، ص۲۲۷، حدیث: ۲۵۱۴۔