Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
291 - 341
(پ۴، آل عمران: ۱۲۰) ترجمۂ کنزالایمان: ’’تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگے اور تم کو برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوں اور اگر تم صبر اور پرہیزگاری کئے رہو تو اُن کا داؤں تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا بے شک اُن کے سب کام خدا کے گھیرے میں ہیں۔‘‘
حضرت سیِّدُنا علامہ حافظ مرتضیٰ زبیدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی  اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس آیت میں بھلائی سے مراد نعمت اور برائی سے مراد معصیت ہے، بھلائی پہنچنے پر انہیں برا لگنا حسد ہے اور برائی پہنچنے پر ان کا خوش ہونا شماتت ہے، نیز اس آیت مبارکہ میں اس بات پر تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ جس کے ساتھ حسد کیا جائے یا شماتت کی جائے یہ دونوں چیزیں اسے اس وقت تک نقصان نہیں پہنچا سکتیں جب تک وہ تقویٰ وصبر اختیار کرے، حسد اور شماتت ایک دوسرے کو لازم ہیں (کہ جہاں حسد پایا جائے گا وہاں شماتت ضرور ہوگی) اور شماتت حسد کے اوپر ایک اضافی گناہ ہے۔(1)
(2)…ایک اور مقام پر اللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرماتا ہے: ﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤی اِلٰی قَوْمِہٖ غَضْبَانَ اَسِفًا ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوۡنِیۡ مِنۡۢ بَعْدِیۡ ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّکُمْ ۚ وَاَلْقَی الۡاَلْوَاحَ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِیۡہِ یَجُرُّہٗۤ اِلَیۡہِ ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوۡنِیۡ وَکَادُوۡا یَقْتُلُوۡنَنِیۡ ۫ۖ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الۡاَعْدَآءَ وَلَا تَجْعَلْنِیۡ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۵۰﴾ ﴾(پ۹، الاعراف: ۱۵۰) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور جب موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلٹا غصہ میں بھرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…اتحاف السادۃ المتقین، کتاب ذم الغضب۔۔۔الخ، بیان حقیقۃ الحسد۔۔۔الخ، ج۹، ص۴۹۴۔