وَسْوَسوں کا دروازہ کھلتاہے۔` بَدفالی سے آدمی کے اندر توہُّم پرستی ، بُزدلی ،ڈر اور خوف ، پَست ہمتی اورتنگ دلی پیدا ہوجاتی ہے۔`ناکامی کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں مثلاً کام کرنے کا طریقہ دُرُست نہ ہونا، غَلَط وَقْت اور غَلَط جگہ پر کام کرنااور ناتجربہ کاری لیکن بَدشگونی کا عادی شخص اپنی ناکامی کا سبب نُحوست کو قرار دینے کی وجہ سے اپنی اِصلاح سے محروم رہ جاتا ہے۔`بَدشگونی کی وجہ سے اگر رشتے ناطے توڑے جائیں تو آپس کی ناچاقیاں جنم لیتی ہیں۔ `جو لوگ اپنے اوپر بَدفالی کا دروازہ کھول لیتے ہیں انہیں ہرچیز منحوس نظر آنے لگتی ہے ، کسی کام کے لیے گھر سے نکلے اور کالی بلی نے راستہ کاٹ لیا تویہ ذہن بنالیتے ہیں کہ اب ہمارا کام نہیں ہوگا اور واپس گھر آگئے ،ایک شخص صبح سویر ے اپنی دکان کھولنے جاتاہے راستہ میں کوئی حادثہ پیش آیا تو سمجھ لیتاہے کہ آج کا دن میرے لیے منحوس ہے لہٰذا آج مجھے نقصان ہوگا یوں ان کا نظامِ زندگی درہم برہم ہوکر رہ جاتا ہے۔`کسی کے گھر پراُلّو کی آواز سن لی تو اِعلان کردیا کہ اس گھر کا کوئی فرد مرنے والا ہے یا خاندان میں جھگڑا ہونے والاہے ،جس کے نتیجے میں اس گھروالوں کے لئے مصیبت کھڑی ہوجاتی ہے۔`نیا ملازم اگر کاروباری ڈِیل نہ کرپائے اور آرڈر ہاتھ سے نکل جائے تو فیکٹری مالک اسے منحوس قرار دے کر نوکری سے نکال دیتا ہے۔` نئی دلہن کے ہاتھوں اگر کوئی چیز گرکر ٹُوٹ پُھوٹ جائے تو اس کو منحوس سمجھا جاتاہے اور بات بات پر اس کی دل آزاری کی جاتی ہے۔