Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
287 - 341
(3)… بدشگونی کا تیسراسبب بدفالی کی وجہ سےکا م سے رک جانا ہے۔ اِس کا علاج یہ ہے کہ جب کسی کام میں بدفالی نکلے تو اسے کر گزرئیے اور اپنے دل میں اس خیال کو جگہ مت دیجئے کہ اس بدفالی کے سبب مجھے اس کام میں کوئی خسارہ وغیرہ ہوگا۔
(4)… بدشگونی کا چوتھا سبب اس کی ہلاکت خیزیوں اور نقصانات سے بے خبری ہے کہ بندہ جب کسی چیز کے نقصان سے ہی با خبر نہیں ہے تو اس سے بچے گا کیسے؟ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ بدشگونی کی ہلاکت خیزیوں اور نقصانات کو پڑھے، ان پر غور کرے اور ان سے بچنے کی کوشش کرے۔بدشگونی کے چند نقصانات یہ ہیں : بَدشگونی انسان کے لئے دینی و دُنیوی دونوں اعتبار سے بہت زیادہ خطرناک ہے ۔یہ انسان کو وسوسوں کی دَلدل میں اُتار دیتی ہے چنانچہ وہ ہر چھوٹی بڑی چیز سے ڈرنے لگتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی پَرچھائی (یعنی سائے)سے بھی خوف کھاتا ہے۔ وہ اس وَہم میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ دنیا کی ساری بَدبختی وبَدنصیبی اسی کے گِرد جمع ہوچکی ہے اور دوسرے لوگ پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسا شخص اپنے پیاروں کو بھی وہمی نگاہ سے دیکھتا ہے جس سے دلوں میں کَدُورَت(یعنی دشمنی) پیدا ہوتی ہے ۔ بَدشگونی کی باطنی بیماری میں مبتلا انسان ذہنی وقلبی طور پر مَفْلُوج(یعنی ناکارہ) ہوکر رہ جاتا ہے اور کوئی کام ڈَھنگ سے نہیں کرسکتا ۔بدشگونی کی چند ہلاکت خیزیاں یہ ہیں :`بدشگونی کا شکار ہونے والوں کا   اللہ عَزَّوَجَلَّپر اِعتماد اور توکُّل کمزور ہوجاتاہے ۔`  اللہ عَزَّوَجَلَّکے بارے میں بَدگمانی پیداہوتی ہے۔`تقدیر پر ایمان کمزور ہونے لگتا ہے۔ `شیطانی