ضروریات کی کفالت کروں۔اگر آپ ایک یا دو ماہ تک ہمارے یہاں قیام کریں تو آپ کی زندگی بھر کی کَفالت کی ترکیب ہوجائے گی اور اگر آپ یہاں سے جانا چاہتے ہیں تو یہ تیس 30دینار ہیں انہیں اپنی ضروریات پر خرچ کرلیجئے اور تشریف لے جائیے ہم آپ کی مجبوری سمجھتے ہیں۔‘‘ اس شخص کا بیان ہے کہ اس سے پہلے میں کبھی تیس 30دینار کا مالک نہیں ہوا تھا، نیز مجھ پر یہ بات بھی ظاہِر ہوگئی کہ بَدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں۔(1)
بدشگونی کے پانچ اسباب و علاج :
(1)… بدشگونی کا پہلا سبب اِسلا می عقائد سے لاعلمی ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ تقدیر پر اِن معنوں میں اعتقاد رکھے کہ ہر بھلائی، بُرائی اللہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے علمِ اَزلی کے موافق مقدّر فرما دی ہے، جیسا ہونے والا تھا اورجو جیسا کرنے والا تھا، اپنے عِلْم سے جانا اور وہی لکھ دیا۔ تو بَدشگونی دل میں جگہ ہی نہیں بناسکے گی کیونکہ جب بھی انسان کو کوئی نقصان پہنچے گا تو وہ یہ ذہن بنالے گا کہ یہ میری تقدیر میں لکھا تھا نہ کہ کسی چیزکی نُحوست کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ۔
(2)… بدشگونی کا دوسرا سبب توکل کی کمی ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ جب بھی کوئی بَدشگونی دل میں کھٹکے تو رب 1پر توکُّل کیجئے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بَدشگونی کا خیال دل سے جاتا رہے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…روح البیان،پ۲، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۸۹، ج۱، ص۳۰۴ ملخصا۔