Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
284 - 341
بات کا مُکَلَّف(یعنی ذمہ دار) بناتا ہے جو اس کی وُسعت وقدرت میں ہو۔‘‘(1) چنانچہ اگر کسی نے بَدشگونی کا خیال دل میں آتے ہی اسے جھٹک دیا تو اس پر کچھ اِلزام نہیں لیکن اگر اس نے بَدشگونی کی تاثیر کا اِعتقاد رکھا اور اِسی اعتقاد کی بنا پر اس کام سے رُک گیا تو گناہ گار ہوگا مثلاً کسی چیز کو منحوس سمجھ کر سفر یا کاروبار کرنے سے یہ سوچ کر رُک گیا کہ اب مجھے نقصان ہی ہوگاتو اب گنہگار ہوگا۔شیخ الاسلام شہاب الدّین امام احمد بن حجر مکی ہیتمی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی  اپنی کتاب اَلزَّوَاجِرُ عَنِ اقْتِرَافِ الْکَبَائِر میں بَدشگونی کے بارے میں دو حدیثیں نَقْل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ’’پہلی اور دوسری حدیثِ پاک کے ظاہِری معنی کی وجہ سے بَدفالی کو گناہِ کبیرہ شمار کیا جاتا ہے اور مناسب بھی یہی ہے کہ یہ حکم اس شخص کے بارے میں ہو جو بَدفالی کی تاثیر کا اِعتقاد رکھتا ہو جبکہ ایسے لوگوں کے اسلام (یعنی مسلمان ہونے نہ ہونے) میں کلام ہے۔‘‘(2)
حکایت، بدشگونی لینا میرا وہم تھا:
تفسیر روح البیان میں ہے ، ایک شخص کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں اتنا تنگ دَست ہوگیا کہ بھوک مٹانے کے لئے مٹی کھانی پڑی مگر پھر بھی بھوک ستاتی رہی۔میں نے سوچا کاش ! کوئی ایسا شخص مل جائے جو مجھے کھانا کھلا دے ۔ چنانچہ میں ایسے شخص کی تلاش میں اِیران کے شہر اَہواز کی طرف روانہ ہوا حالانکہ وہاں میرا کوئی واقف نہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…تفسیرات احمدیہ ،ص۱۸۹۔
2…الزواجر،الباب الثانی فی ۔۔۔الخ، باب السفر، ج۱، ص۳۲۶۔