بدشگونی لی اور جس کے لیے بدشگونی لی گئی وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘(1)
بدشگونی کاحکم:
حضرتسید نا امام محمد آفندی رُومی برکلی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْوَلِی لکھتے ہیں : ’’بَدشگونی لینا حرام اور نیک فال یا اچھا شگون لینا مُسْتَحَب ہے ۔‘‘(2) مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یارخان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اسلام میں نیک فال لینا جائز ہے، بدفالی بدشگونی لینا حرام ہے۔‘‘(3)
ایک اہم ترین وضاحت:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نہ چاہتے ہوئے بھی بعض اوقات انسان کے دل میں بُرے شگون کا خیال آہی جاتا ہے اس لئے کسی شخص کے دِل میں بَدشگونی کا خیال آتے ہی اسے گنہگار قرار نہیں دیا جائے گا کیونکہ محض دِل میں بُرا خیال آجانے کی بنا پر سزا کا حقدار ٹھہرانے کا مطلب کسی اِنسان پر اس کی طاقت سے زائد بوجھ ڈالنا ہے اور یہ بات شرعی تقاضے کے خلاف ہے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّاِرشادفرماتا ہے :﴿ لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ ﴾(پ۳، البقرۃ: ۲۸۶) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔‘‘حضرت علامہ مُلَّا جِیْون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس آیت کے تحت تفسیراتِ احمدیہ میں لکھتے ہیں : ’’یعنی اللہ تَعَالٰی ہر جاندار کو اس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…معجم کبیر، حدیث عمران بن حصین، ج۱۸، ص۱۶۲، حدیث: ۳۵۵۔
2…الطریقۃ المحمدیۃ، ج۲، ص۱۷، ۲۴۔
3…تفسیر نعیمی،پ۹، الاعراف، تحت الآیہ: ۱۳۲، ج۹،ص۱۱۹۔