Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
282 - 341
قَالُوۡا لَنَا ہٰذِہٖ ۚ وَ اِنۡ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَّطَّیَّرُوۡا بِمُوۡسٰی وَمَنۡ مَّعَہٗ ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُہُمْ عِنۡدَ اللہِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَایَعْلَمُوۡنَ ﴿۱۳۱﴾ ﴾ (پ۹، الاعراف: ۱۳۱) ترجمۂ کنزالایمان: ’’تو جب انہیں بھلائی ملتی کہتے یہ ہمارے لئے ہے اور جب برائی پہنچتی تو موسٰی اور اس کے ساتھ والوں سے بد شگونی لیتے سن لو ان کے نصیبہ کی شامت تو اللہ کے یہاں ہے لیکن ان میں اکثر کو خبر نہیں۔‘‘
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّتحضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان اِس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں : ’’جب فرعونیوں پر کوئی مصیبت (قحط سالی وغیرہ) آتی تھی تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کے ساتھی مؤمنین سے بَدشگونی لیتے تھے، کہتے تھے کہ جب سے یہ لوگ ہمارے ملک میں ظاہِر ہوئے ہیں تب سے ہم پر مصیبتیں بلائیں آنے لگیں۔ ‘‘ مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں :’’انسان مصیبتوں ، آفتوں میں پھنس کر توبہ کرلیتا ہے مگر وہ لوگ ایسے سَرکش تھے کہ ان سب سے ان کی آنکھیں نہ کُھلیں بلکہ ان کا کُفْروسَرکشی اور زیادہ ہوگئی کہ جب کبھی ہم ان کو آرام دیتے ہیں ، اَرزانی ،چیزوں کی فَراوانی وغیرہ تو وہ کہتے کہ یہ آرام وراحت ہماری اپنی چیزیں ہیں ،ہم اس کے مستحق ہیں نیز یہ آرام ہماری اپنی کوششوں سے ہیں۔‘‘ (1)
حدیث مبارکہ، بدشگونی لینے والاہم میں سے نہیں :
حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…تفسیر نعیمی،پ۹، الاعراف، تحت الآیہ: ۱۳۱، ج۹، ص۱۱۷۔