(42)…بدشگونی
بدشگونی کی تعریف:
تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کےاشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۲۸ صفحات پر مشتمل کتاب ’’بدشگونی‘‘ صفحہ ۱۰ پر ہے: ’’شگون کا معنی ہے فال لینا یعنی کسی چیز ،شخص، عمل،آواز یا وَقْت کو اپنے حق میں اچھا یابُرا سمجھنا۔ (اسی وجہ سے بُرا فال لینے کو بدشگونی کہتے ہیں۔)
شگون کی قسمیں :
بنیادی طور پر شگون کی دو قسمیں ہیں : (۱) بُرا شگون لینا (۲)اچھا شگون لینا۔ علامہ محمد بن احمد اَنصاری قُرطبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی تفسیرِ قُرطبی میں نَقْل کرتے ہیں : ’’اچھا شگون یہ ہے کہ جس کام کا اِرادہ کیا ہو اس کے بارے میں کوئی کلام سن کردلیل پکڑنا،یہ اس وَقْت ہے جب کلام اچھا ہو، اگر بُرا ہو تو بَد شگونی ہے۔ شریعت نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ انسان اچھا شگون لے کر خوش ہو اور اپنا کام خوشی خوشی پایۂ تکمیل تک پہنچائے اور جب بُراکلام سُنے تو اس کی طرف توجُّہ نہ کرے اورنہ ہی اس کے سبب اپنے کام سے رُکے۔‘‘(1)
آیت مبارکہ:
اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:﴿ فَاِذَا جَآءَتْہُمُ الْحَسَنَۃُ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جامع احکام القراٰن ،پ۲۶، الاحقاف،تحت الاٰیۃ:۴،الجزء: ۱۶، ج۸، ص۱۳۲۔