حکم چلاتے ہیں ہوسکتا ہے کل ان سے ہی کوئی ایسا کام پڑجائے جو ہمارے تکبر کو خاک میں ملا دے۔اس لیے کیسا ہی منصب یا عہدہ مل جائے پر اپنی اوقات نہیں بھولنی چاہیے۔
(6)… تکبر کا چھٹا سبب کامیابی وکامرانی ہےکہ جب کسی کو پے درپے کامیابیاں ملتی ہیں تو وہ ناکام ہونے والے لوگوں کو حقیر سمجھنا شروع کردیتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ یہ نہ بھولے کہ وقت ایک سا نہیں رہتا، بلندیوں پر پہنچنے والوں کو اکثر واپس پستی میں بھی آنا پڑتا ہے، ہرکمال کو زوال ہے، کامیابی پر اللہ عَزَّوَجَلَّکا شکر ادا کرنا چاہیے نہ کہ اسے اپنا کمال تصور کرتے ہوئے دوسروں کو حقارت کی نظر سے دیکھے۔ بندہ یہ بھی ذہن بنائے کہ جسے میں کامیابی سمجھ رہا ہوں وہ فقط دنیا کی کامیابی ہے جو ایک نہ ایک دن ختم ہوجائے گی، اصل کامیابی تو یہ ہے کہ میں اس دنیا سے ایمان سلامت لے جاؤں ، دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کروں ، اپنے رب عزوجل کو راضی کرلوں۔
(7)… تکبر کا ساتواں سبب حسن وجمال ہےکہ بندہ اپنے ظاہری حسن وجمال کے سبب تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنی ابتداء وانتہاء پر غور کرے کہ میرا آغاز ناپاک نطفہ اور انجام سڑا ہوا مردہ ہونا ہے، نیز عمر کے ہر دور میں حسن یکساں نہیں رہتا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ بھی ماند پڑجاتاہے، یہ بھی پیش نظر رکھے کہ میرے اسی حسن وجمال والے بدن سے روزانہ پیشاب، پاخانہ،