Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
278 - 341
دمک۔ لہٰذا اس فانی اور ساتھ چھوڑ جانے والی شے کی وجہ سے تکبر میں مبتلا ہو کر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو کیوں ناراض کیا جائے؟
(4)… تکبر کا چوتھا سبب حسب ونسب ہےکہ بندہ اپنے آباء واجداد کے بل بوتے پر اکڑتا اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنا یہ مدنی ذہن بنائے کہ دوسروں کے کارناموں پر گھمنڈ کرنا عقلمندی نہیں بلکہ جہالت ہے اور آباء واَجْداد پر فخر کرنے والوں کے لیے جہنم کی وعید ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اپنے فوت شدہ آباؤ اجداد پر فخر کرنے والی قوموں کو باز آجانا چاہیے کیونکہ وہی جہنم کا کوئلہ ہیں ، یا وہ قومیں   اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک گندگی کے ان کیڑوں سے بھی حقیر ہوجائیں گی جو اپنی ناک سے گندگی کو کریدتے ہیں ،   اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تم سے جاہلیت کا تکبر اور ان کا اپنے آباء پر فخر کرنا ختم فرمادیا ہے، اب آدمی متقی ومؤمن ہوگا یا بدبخت وبدکار، سب لوگ حضرت آدم (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ) کی اولاد ہیں اور حضرت آدم (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام )کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔‘‘(1)
(5)… تکبر کا پانچواں سبب عہد ہ ومنصب ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنا یہ ذہن بنائے کہ فانی پر فخر نادانی ہے کیونکہ عزت ومنصب کب تک ساتھ دیں گے؟ جس منصب کے بل بوتے پر آج اکڑتے ہیں ، کل کو چھن گیا تو انہی لوگوں سے منہ چھپانا پڑے گا جن سے آج تحقیر آمیز سلوک کرتے ہیں۔ آج جن لوگوں پر چیخ چیخ کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…ترمذی، کتاب المناقب، باب فی فضل الشام والیمن، ج۵، ص۴۹۷، حدیث: ۳۹۸۱۔