تکبر کی آفت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ مُعَلِّمُ الْمَلَکُوْت کے منصب تک پہنچنے والے شیطان کے انجام کو یاد رکھے کہ اس نے تکبر کرتے ہوئے اپنے آپ کو حضرت سیِّدُنا آدم صِفِیُّ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے افضل قرار دیا تھا مگر اسے اس تکبر کے نتیجے میں قیامت تک کی ذلت ورسوائی ملی اور وہ جہنم کا حقدار ٹھہراکہیں یہ تکبر ہمیں بھی تباہ وبرباد نہ کردے۔
(2)… تکبر کا دوسرا سبب عبادت وریاضت ہے کہ بندہ کثیر عبادت وریاضت کے سبب اس مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ سوچے میں اگر میں بہت زیادہ عبادت کرتا ہوں تو اس میں میرا کیا کمال ہے؟ یہ تو اس رب عَزَّوَجَلَّ کا کرم ہے ، نیز عبادت تو وہی مفید ہوگی جس میں نیت درست ہو، تمام شرائط پائی جاتی ہوں۔ بندہ اپنے آپ کو یوں ڈرائے کہ کیا خبر یہ عبادت جس پر میں گھمنڈ کررہا ہوں وہ میرے اس تکبر کے سبب رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہونے کے بجائے مردوو ہوجائے اور جنت میں داخلے کے بجائے جہنم میں داخلے کا سبب بن جائے۔
(3)… تکبر کا تیسرا سبب مال ودولت ہے کہ جس کے پاس کار، بنگلہ، بینک بیلنس اور کام کاج کے لیے نوکر چاکر ہوں وہ بھی بسااوقات تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اس بات کا یقین رکھے کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ اسے یہ سب کچھ یہیں چھوڑ کر خالی ہاتھ دنیا سے جانا پڑے گا، کفن میں تھیلی ہوتی ہے نہ قبر میں تجوری، پھر قبر کو نیکیوں کا نور روشن کرے گا نہ کہ سونے چاندی اور مال ودولت کی چمک