اور اللہ عَزَّوَجَلَّکی جناب میں تکبر کرتا ہواس کی پکڑ اس طرح ہوتی ہے کہ اسے ذلت واہانت کی پستی میں پھینک دیا جاتا ہے۔‘‘(1)
(2)…’’اللہ عَزَّوَجَلَّکے رسولوں کے مقابلے میں تکبر۔‘‘ تکبر کی یہ قسم بھی کفر ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ تکبر جہالت اور بغض وعداوت کی بنا پر رسول کی پیروی نہ کرنا یعنی خود کو عزت والا اور بلند سمجھ کر یوں تصور کرنا کہ عام لوگوں جیسے ایک انسان کا حکم کیسے مانا جائے ، جیسا کہ بعض کفار نے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بارے میں حقارت سے کہا تھا:﴿ اَہٰذَا الَّذِیۡ بَعَثَ اللہُ رَسُوۡلًا ﴿۴۱﴾ ﴾ (پ۱۹، الفرقان: ۴۱) ترجمۂ کنزالایمان: ’’کیا یہ ہیں جن کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا۔‘‘ اور یہ بھی کہا تھا: ﴿ لَوْلَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیۡنِ عَظِیۡمٍ ﴿۳۱﴾ ﴾ (پ۲۵، الزخرف: ۳۱) ترجمۂ کنزالایمان: ’’کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن ان دو شہروں کے کسی بڑے آدمی پر۔‘‘
(3)…’’بندوں کے مقابلے میں تکبر۔‘‘ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علاوہ مخلوق میں سے کسی پر تکبر کرنا، وہ اس طرح کہ اپنے آپ کو بہتر اور دوسرے کو حقیر جان کر اس پر بڑائی چاہنا اور مساوات یعنی باہم برابری کو ناپسند کرنا۔ یہ صورت اگرچہ پہلی دو صورتوں سے کم تر ہے مگر یہ بھی حرام ہے اور اس کا گناہ بھی بہت بڑا ہے کیونکہ کبریائی اور عظمت بادشاہ حقیقی عزوجل ہی کے لائق ہے نہ کہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الزواجر، الباب الاول فی الکبائر۔۔۔الخ، ج۱، ص۷۱۔