کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند اٹھایا جائے گا، ہر جانب سے ان پر ذلت طاری ہوگی، انہیں جہنم کے بُوْلَس نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آجائے گی، انہیں طِیْنَۃُ الْخَبَّال یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔‘‘(1)
تکبر کی تین قسمیں اور ان کا حکم:
(1)…’’اللہ عَزَّوَجَلَّکے مقابلے میں تکبر۔‘‘ تکبر کی یہ قسم کفر ہے جیسے فرعون کا کفر کہ اس نے کہا تھا: ﴿ فَقَالَ اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی ﴿۫ۖ۲۴﴾ فَاَخَذَہُ اللہُ نَکَالَ الْاٰخِرَۃِ وَ الْاُوۡلٰی ﴿ؕ۲۵﴾ ﴾(پ۳۰، النٰزعات: ۲۴۔ ۲۵) ترجمۂ کنزالایمان: ’’میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں تو اللہ نے اسے دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں پکڑا۔‘‘
فرعون کی ہدایت کے لیے اللہ عَزَّوَجَلَّنے حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ اور حضرت سیِّدُنا ہارون عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھیجا مگر اس نے ان دونوں کو جھٹلایا تو رب 1نے اسے اور اس کی قوم کو دریائے نیل میں غرق کردیا۔(2)
مفسرین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّنے فرعون کو مرے ہوئے بیل کی طرح دریا کے کنارے پر پھینک دیا تاکہ وہ باقی ماندہ بنی اسرائیل اور دیگر لوگوں لیے عبرت کا نشان بن جائے اور ان پر یہ بات واضح ہوجائے کہ جو شخص ظالم ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ج۴، ص۲۲۱، حدیث: ۲۵۰۰۔
2…الحدیقۃ الندیۃ، البحث الثانی من المباحٹ۔۔۔الخ، ج۱، ص۵۴۹۔