کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔‘‘(1) امام راغب اصفہانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْغَنِی لکھتے ہیں : ’’تکبر یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو دوسروں سے افضل سمجھے۔‘‘(2) جس کے دل میں تکبر پایا جائے اسے ’’مُتَکَبِّر ‘‘ اور مغرور کہتے ہیں۔
آیت مبارکہ:
اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتاہے: ﴿اِنَّه لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ۲۳﴾ (پ۱۴، النحل: ۲۳ ) ترجمۂ کنزالایمان: ’’بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔‘‘
ایک اور مقام پر فرماتا ہے: ﴿ وَ لَا تَمْشِ فِی الۡاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّکَ لَنۡ تَخْرِقَ الۡاَرْضَ وَلَنۡ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوۡلًا ﴿۳۷﴾ ﴾(پ۱۵، بنی اسرائیل: ۳۷) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہرگز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا ۔‘‘
کافر متکبرین کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:﴿ فَادْخُلُوۡۤا اَبْوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۲۹﴾ ﴾(پ۱۴، النحل: ۲۹) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اب جہنّم کے دروازوں میں جاؤ کہ ہمیشہ اس میں رہو تو کیا ہی برا ٹھکانا مغروروں کا۔‘‘
حدیث مبارکہ، متکبرین کے لیے بروزقیامت رسوائی:
حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ، ص۶۱، حدیث: ۱۴۷۔
2…مفردات الفاظ القرآن، کبر، ص۶۹۷۔